مقدمہ ناشر

امام خمینیؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی، مسلمان ملت کی موجودگی، شہدائے عزیز کی بے بہا مجاہدت کے ذریعے اسلامی ثقافت کی ترویج و ترقی کیلئے زمین ہموار ہوئی۔ خصوصاً قرآن کریم کی ترویج کیلئے راہ ہموار ہوئی۔ اس سلسلے میں علمی مراکز کے درد مند دانشوروں نے تبلیغ دین کے واسطے مناسب کتب تالیف کرنے میں بہت سے اقدمات کیے۔

موجودہ کتاب بارہ جلدی تفسیر نور کے مجموعہ میں سے ایک حصہ ہے۔ یہ کتاب قرآن کی تنہائی کو دور کرنے اور کلام الٰہی کے انسان ساز پیغام کو نئے انداز اور تازہ قلم کے ذریعے پیش کرنے کیلئے حجۃ الاسلام و المسلمین محسن قرائتی نے تحریر کیا ہے، جوکہ ۱۳۷۶ شمسی کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران میں کتاب سال انتخاب کی گئی ہے۔
اس تفسیر کی ابتدائی جلدیں چھپنے کے بعد، مدارس دینیہ اور یونیورسٹی کے فضلا کی طرف سے بہت زیادہ نکتۂ نظر اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے کے علمی ادبی حلقوں میں قرآن کریم کے مفاہیم کا اس انداز سے بیان پسند کیا گیا ہے۔

اب ہم تفسیر نور کے انداز اور طریقہ کار سے آگاہی کیلئے چند ایک موارد کا مختصر ذکر کریں گے ،تاکہ خود طلبہ کیلئے تفسیری میدان میں کام کرنے میں راہنمائی ہو۔

طریقہ کار
قدیم اور معاصر مفسرین میں سے تقریباً بارہ شیعہ سنی تفاسیر کے انتخاب کے بعد، چند ایک فاضل طلبہ نے اس کا عمیق مطالعہ شروع کیا، اس سے نکات اور تفسیری مطالب کو تحریری صورت میں مؤلف محترم کی خدمت میں پیش کرتے رہے۔
مؤلف محترم نے اس کا گہرا مطالعہ کیا اور خود بھی غور و فکر اور تحقیق کرنے کے بعد معاشرے کی دینی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، آج کی نسل جن قرآنی مفاہیم کو حاصل کرنے کی پیاسی تھی اُن قرآنی حیاتی پیغام کو نکات و پیام ہائے آیت کے عنوان سے، سادہ اور سلیس نثر میں پیش کیا ۔ البتہ بعض موقعوں پر اپنے نکتہ نظر کو علمی مرکز حوزہ کے بزرگوں کے سامنے بحث اور تبادلہ نظر کیلئے پیش کرتے تھے
ان کی تحریر ریڈیو کے پروگرام آئینہ وحی میں بیان کیے جانے کے بعد، کتابی شکل میں لائی جاتی اور آخری مرحلہ میں اشاعت سے پہلے ایک مرتبہ وہ خود نظر ثانی کیا کرتے تھے۔

انداز بیان
ہر آیت کے مطالب کو پانچ عناوین کے زیل میں لکھا گیا ہے :
۱۔ آیت کی عبارت جوکہ عثمان طہ کے رسم الخط میں ہے ، پورے اعراب کے ساتھ کمپوز کی گئی ہے اور کئی مرتبہ اس کو پرکھا گیا ہے۔
۲۔ ہر آیت کے ترجمہ کو گروہ کی شکل میں اور مؤلف محترم کے زیر نظر ، بہترین موجود تراجم (تقریباً ۶ عدد ) کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا گیا ہے ۔ بات کو بہتر طور پر سمجھانے اور اس میں روانی کی خاطر بعض مطالب کو مزید وضاحت کیلئے الگ قوسین میں تحریر کیا گیا ہے۔
۳۔ وہ نکات جو قوسین میں درج ہیں :
الف: آیت کی مشکل لغات کا ترجمہ اور اصل مادہ ہیں۔
ب: آیت کی شان نزول کابیان ہےجوکہ آیت کے سیاق و سباق کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ج: آیت سے متعلقہ دیگر آیات جو مختلف قرآنی موضوعات کو جاننے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
د: آیت کے ذیل میں روایات کا بیان ہے۔ اس حصہ میں روایات کی کثرت کی بناپر صرف نمونہ کے طور پر چند ایک روایات کو بیان کیا گیا ہے۔
ھ: آیت کے مفہوم کو مزید روشن کرنے کیلئے چند ضروری وضاحتیں شامل کی گئی ہیں۔
و:خودسے ہی بعض سوال کرنے کے بعد ان کے جوابات پیش کیے گئے ہیں۔
۴۔ پیغام ہا، مؤلف محترم کا اس تفسیر کے بارے اصل مطمئنہ نظر یہی پیغام والا حصہ ہے۔ تاکہ یہ سمجھا سکیں کہ تمام زمانوں میں اور ہر نسل کیلئے قرآن کتابِ حیاتِ انسان ہے ۔ البتہ مؤلف محترم نے اپنی بات میں دلیل کے طور پر ہر آیت کے آخر میں درج ذیل امور کا ذکر کیا ہے:
الف : ہر آیت کے الفاظ معانی،
ب : چند کلمات سے مرکب عبارتیں،
ج : آیت کی ابتدا اور انتہا کے درمیان رابطہ،
د : آیت کا ماقبل آیات کے ساتھ تعلق۔
۵۔ آیات، روایات اور تفاسیر و کتب کے حوالہ جات کو مختصر طور پر تحریر کیا گیا ہے۔ اسی آیت سے متعلق وہ نکات اور تفسیری مطالب جو نکات اور پیغام ہا کے عنوان میں نہیں آتے ، ان کا ذکر کیا گیا ہے۔

ضروری تذکر
۱۔ جہاں کہیں نکات اور پیغام کی تعداد ایک سے زیادہ نہیں بڑھی، لیکن ایک خاص انداز کو باقی رکھنے کی خاطر نکات و پیغام کا عنوان بصورت جمع آیا ہے۔
۲۔ تفسیری کتب کے بارے میں جہاں کہیں مراد آیت کے ذیل میں اس تفسیر کے مطالب تھے ، وہاں حوالے میں کتاب کی جلد اور صحفہ کا نمبر ذکر نہیں کیا گیا۔

آخر میں ہم حجج الاسلام جناب سید جواد بہشتی، رحمت جعفری، حسن دہشیری اور محمود متوسل جنہوں نے تفاسیر کی چھان بین اور تحقیق میں ہماری مدد کی، جناب علی محمد متوسلی جنہوں نے تقابلی جائزہ اور اس جلد کی آخری تصحیح کے کام میں بہت زیادہ تعاون کیا، دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ بات بھی بجا ہے کہ اصول و قواعد کا خیال رکھنے اور کمپوزنگ کی اغلاط کو ٹھیک کرنے میں ہماری تمام تر کوشش کے باوجود یقیناً ہوسکتا ہے کہ کچھ غلطیاں اور کمیاں اس تفسیر کو پیش کرنے میں باقی رہ گئی ہوں۔ امید ہے کہ محترم قارئین پہلے کی طرح خلوص و محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجویز ، ہمارے تہران کے پتہ پوسٹ بکس ۵۸۶۔۱۴۱۸۵ پر بھیج کر اصلاح اور تکمیل کے مراحل میں ہماری مدد فرمائیں گے۔ اس کے لیے ہمارا پیشگی شکریہ قبول کریں ۔

ثقافتی مرکز برائے درسہائے از قرآن

تفسیر نور  :  فہرست