تقریظ

تقریظ
آیت اللہ الحاج سید مہدی روحانی 


قرآن مجید جو انسانی زندگی ، تاریخی تبدیلیوں اور خاص طور پر مسلمانوں پر عظیم اثرات رکھتا ہے ، جیسا قرآن کا مقام تھا ویسی اس پر توجہ نہیں دی گئی اور لوگوں کے درمیان مہجور (ایک طرف رکھا) رہا ہے ۔ جبکہ خود قرآن میں فرمایا گیا ہے : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان اور قابل فہم قرار دیا ہے ۔
اس کے باوجود قرآنی مطالب کو بھلا دیا گیا ، بے توجہی برتی گئی ۔ جیسا کہ سابقہ اقوام کے بارے میں قرآن پاک میں آیا ہے: فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ ۝

قرآن مجید اول سے آخر تک بشر کیلئے الٰہی پیغام ہے ۔ اس سارے پیغام سے آشنائی اور آگاہی ضروری ہے ۔ خاص طور پر خدا کا وہ پیغام ، جو انسان کی دنیوی سعادت اور ابدی نجات سے متعلق ہو ۔ اس کے لیے تمام آیات اور ان کے معنی میں غور و فکر ضروری ہے : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۝

ان مقدمات کا تقاضا یہ ہے کہ سارے قرآن پاک کیلئے ایک تفسیر لکھی جائے جس میں آیات کے اصل محتوا (متن) کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور واضح ہو کہ یہ آیت یا آیات کیا فائدہ دینا چاہتی ہیں؟ اور کس بات پر اعتراض کیا جا رہا ہے؟ جدید اصطلاح کے مطابق تفسیر ’’بیانی‘‘ ہو ۔
تفسیر کی اکثر و بیشتر کتابوں میں مختلف علوم کی فنی ابحاث کو شامل کیا گیا ہے ۔ جیسے ادبیات اور اس کی شاخیں ، علم کلام ، مذہبی و فرقہ وارانہ اور فقہ وغیرہ کی بحثوں کو ذکر کیا ہے ۔ ہر صاحب فن اپنے ہنر کے دائرے میں فنی اصطلاحات پر بحث کرتا ہے ، اس کے باوجود کہ بحث بہت طویل ہو جاتی ہے اور یہی بحث کا طویل ہونا ایک رکاوٹ بھی ہے کہ انسان تمام قرآن پاک سے آشنا ہوسکے۔ اس بات کو رہنے دیں کہ کچھ لوگوں نے تو قرآن پاک کی آیات کو اپنے شخصی و انحرافی عقائد پر دلیل بنا کر پیش کیا ہے۔

امام خمینیؒ کی تحریک اور اسلامی انقلاب میں فطری طور پر دین مقدس اسلام اور مذہب تشیع کہ جس کا سب سے بڑا ماخذ قرآن پاک ہے، کی طرف زیادہ توجہ کی گئی ہے ۔ اس دوران اس بات کا احساس زیادہ ہوا کہ ایک ایسی تفسیر لکھی جائے جو طالبعلموں اور ادب و ہنر سے وابستہ افراد کیلئے کفایت کرتی ہو ۔
ایسی تفسیر میں جن باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیے وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ زبان سادہ اور روان ہو لیکن کُند نہ ہو ۔
۲۔ علمی فنی اصطلاحات جو فہم قرآن میں مشکل کا باعث بنتی ہیں ، ان سے دور ہو ۔
۳۔ ایسے مطالب جو زندگی کیلئے راہنما ہوں ، مسلمانوں کے معاشرے میں پیش کیے جانے کے قابل ہوں بلکہ تمام انسانی معاشروں میں ترجمہ ہوسکے، منتقل ہو سکے، جو حقیقت میں ھدی للناس و ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْن ہو ۔ کیونکہ قرآنی مطالب کسی وقت، مخصوص زمانے، فرد یا ایک خاص گروہ کیلئے نہیں ہیں ۔
۴۔ آیات سے مفہومی استفادہ آیات کی دلالت کے ساتھ ہو ۔ تفسیر بہ رائے، اپنی پسند کا استحسان اور کمزور روایات کا سہارا نہ لیا گیا ہو ۔
۵۔ اہل بیتؑ سے مروی معتبر روایات جو کہ ثقلین (کتاب اللہ و عترت رسول اللہ) کا ایک پلڑا ہیں، رسول اکرمؐ کے حکم کے مطابق ان کی طرف رجوع ضروری ہے۔ یہ بات ہماری نگاہ میں رہنی چاہیے ۔
اس تفسیر (جناب قرائتی کی تفسیر) کو لکھنے میں یہ تمام اصول اور بنیادیں مد نظر تھیں ۔ چنانچہ اگر کوئی غلطی ملاحظہ ہو تو وہ از روئے غفلت ہوگی اور انشاء اللہ اس کی اصلاح کر دی جائے گی۔
مجھے امید ہے کہ گران قدر دانشور حجۃ الاسلام جناب محترم قرائتی جو تفسیر کے موضوع میں مختلف علمی جہات، ذوق اور ولولے سے سرشار ہیں، کلمات الٰہی کے لطائف کو بخوبی سمجھ پائیں گے۔ ان اصول اور خصوصیات کے مطابق اپنی تفسیر کو مکمل کریں گے۔
میں نے اس مجموعہ میں سے ایک پارے سے زیادہ کا مطالعہ خود ان کے ہمراہ اکٹھے کیا ہے، مطالعہ کے دوران بعض نکات پر ان کی خدمت میں تذکر دیا ہے۔
ہمارے محترم مؤلف نے ہر آیت کے سادہ و سلیس ترجمہ کے بعد، آیت کے معنی کی تشریح کو نکات کی صورت میں پیغام ہائے آیت کے نام سے ذکر کیا ہے ۔ یہ نکات حقیقت میں روح تفسیر، شرح اور اس کی وسعت کو بیان کرتے ہیں ۔ انصاف تو یہ ہے کہ بہت سے موقعوں پر ان کے بیان کردہ نکات اور فہم آیت میں تخلیقی پن اور تازگی پائی جاتی ہے۔

اس دن کی امید کے ساتھ کہ جب قرآن پاک مسلمان مدارس و جامعات میں اصلی محور قرار پائے گا، جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام صحیفہ سجادیہ کی دعائے ختم قرآن میں فرماتے ہیں: و میزان قسط لا یحیف عن الحق لسانہ قرآن عدل کا وہ ترازو ہے کہ حق کو بیان کرنے میں اس کی زبان لڑکھڑاتی نہیں۔
اس امید کے ساتھ کہ یہ طرز تفسیر اور تخلیقی انداز، جسے ہمارے محترم مؤلف نے اعلیٰ قرآنی مطالب کو بیان کرنے کیلئے اپنایا ہے، پہلا اور آخری قدم نہ ہو ۔ صاحب نظر و محقق حضرات آئندہ اپنے اقدامات کے ذریعے اس کی تکمیل کریں ۔
جعلنا اللہ من المتمسکین بالثقلین بکتاب اللہ و عترۃ نبیہ محمد صلی اللہ علیہ و علیھم
قم ۹ ربیع الثانی ۱۴۱۴
مہدی الحسینی الروحانی

تفسیر نور  :  فہرست