مقدمہ


الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی سیدنا محمد و اہل بیتہ المعصومین

حوزہ علمیہ قم سے دروس سطح اور کچھ خارج کے دروس پڑھ چکا تھا کہ میں قرآن پاک کو بہتر اور تفصیل سے سمجھنے کی فکر میں لگ گیا ۔ کچھ دوستوں کے ساتھ نشست و برخاست شروع کی، جن میں سے ہر کوئی قرآنی مطالب کا مطالعہ ، مباحثہ کے علاوہ خلاصہ کو بھی تحریر کر رہے تھا ، ان کے ہمراہ چند پارہ قرآن تک اس کام کو جاری رکھا ۔
ان دنوں میں سنا کہ آیت اللہ مکارم شیرازی دامت برکاتہ ارادہ رکھتے ہیں کہ کچھ فضلاء کے ساتھ مل کر تفسیر لکھیں ہیں ۔ انہوں نے میرے تحریر کردہ تفسیری مطالب کو دیکھا، پسند کیا اور پھر میں بھی اس گروہ میں شامل ہوگیا۔
پندرہ سال کا عرصہ لگ گیا کہ تفسیر نمونہ کی ۲۷ جلدیں مکمل ہو گئیں ۔ جو اب تک کئی بار چھپ چکی ہے اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ تقریباً آدھی تفسیر نمونہ مکمل ہو چکی تھی کہ انقلاب اسلامی امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی رہبری میں کامیاب ہوا ۔ میں نے انہی ابتدائی دنوں میں مرحوم علامہ شہید مطہری کی فرمائش پر ٹیلی وژن کے پروگرام میں شرکت شروع کر دی ۔ آج سترہ سال گذر چکے ہیں کہ میں ہر شب جمعہ جمہوری اسلامی ایران کے ٹیلی وژن سے درسھائی از قرآن کے نام سے پروگرام کر رہا ہوں۔
تفسیر نمونہ کے آخر تک میرا تعاون جاری رہا ۔ اسی دوران میں سوچنے لگا کہ عوامی سطح فکر کے مطابق تفسیری مطالب کو ریڈیو سے شروع کروں ۔ اس مقصد کیلئے تفسیر نمونہ کے علاوہ دوسری دس تفاسیر سے بھی مطالب کی جمع آوری کی گئی ۔ اب آٹھ سال ہوگئے ہیں کہ ریڈیو سے ہر ہفتہ میں ایک دن اور ماہ رمضان میں روزانہ ’’آئینہ وحی‘‘ کے نام سے پروگرام نشر ہو رہا ہے ۔
کئی مرتبہ یہ تجویز دی گئی کہ جو کچھ ریڈیو پر کہتا ہوں ، کتاب کی شکل میں شائع کیا جائے ۔ یہاں تک کہ میں نے کچھ سپارمیں تک کے مطالب جو میں لکھ چکا تھا ، انہیں میں نےآیت اللہ الحاج سید مہدی روحانی اور آیت اللہ مصباح یزدی دامت برکاتہما کے سامنے پڑھ کر سنایا ، یوں مجھے اپنے طریقہ کار اور تفسیری سوچ پر زیادہ اطمینان حاصل ہوگیا ۔ میں نے ان نوٹس کو پھر سے لکھنے کیلئے حجۃ الاسلام محمدیان اور حجۃ الاسلام محدثی کو دیا ۔ ان کے لکھے جانے کے بعد مسودہ کو مؤسسہ در راہ حق قم کے حوالے کر دیا تاکہ آیت اللہ استادی کے زیر نظر شائع کیا جائے اور محترم قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے ۔
معاونین
قرآن کریم کے پہلے چار پاروں تک حجۃ الاسلام دہشیری اور حجۃ الاسلام جعفری جو چندہفتے یہاں تہران میرے پاس آیا کرتے تھے ، تفسیری مطالب کی تحقیق میں میری مدد کیا کرتے تھے ۔
پانچویں پارے سے سولہویں پارے تک ، حجۃ الاسلام سید جواد بہشتی اور حجۃ الاسلام شیخ محمود متوسل نے اس مقدس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ (اس مقدمے کو لکھنے کی تاریخ تک)

تفسیر نور  :  فہرست