سورہ حمد آیت نمبر۴

آیت نمبر ۴
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝
ترجمۃ الآیات
(وہ خدا) روز جزا کا مالک ہے۔

نکات

٭ خداوند عالم کی مالکیت اس کے مکمل قبضے اور سلطنت پر محیط ہے، جبکہ دوسروں کی مالکیت حقیقی نہیں بلکہ اعتباری ہوتی ہے جو ان کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ جو اس کے حقیقی قبضے میں نہیں ہے۔ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝
٭ اس کے باوجود کہ خداوند ہرچیز کا ہر وقت مالک حقیقی ہے مگر قیامت کے دن اور روزِ معاد اس کی مالکیت کا رنگ ہی کچھ اور ہو گا: وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْـبَابُ۝ ، اس دن تمام واسطے اور اسباب قطع ہو جائیں گے۔ (بقرہ۔ ۱۶۶)
فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَہُمْ ، تمام رشتے اور سبب و نسب ختم ہو جائیں گے۔ (مومنون۔ ۱۰۱)
لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ۝ ، مال اور اولاد کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ (شعراء ۔ ۸۸)
لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ ، قرابت دار اور لواحقین بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ (ممتحنہ۔ ۳)
انکار کرنے والی زبان کو عذر اور بہانہ تراشی کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ہی ان کی فکر کو تدبیر کی فرصت ہوگی ۔ صرف ایک راہ باقی رہ جائے گی جو چارہ ساز ثابت ہوسکتی ہے اور وہ ہے خداوند عالم کا فضل و کرم کہ جو اس دن کا مالک و مختار ہوگا۔
٭ لفظ ’’دین‘‘ کئی معانی میں استعمال ہوا ہے:
الف: آسمانی قوانین کا مجموعہ، جیسا کہ فرماتا ہے: اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۝ (آل عمران۔ ۱۹)
ب: عمل و اطاعت، لِلہِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۝ ( زمر ۔ ۳ )
ج: حساب و جزاء۔ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔
قرآن مجید میں لفظ يَوْمِ الدِّيْنِ قیامت کے دن کے معنی میں ہے جو سزا اور جزا کا دن ہے۔ يَسْـَٔـلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِ۝ یعنی آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کا دن کب ہوگا۔ (ذاریات۔ ۱۲)
قرآن اس دن کا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے: ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۝ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا۝ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلہِ۝ یعنی تم نہیں جانتے کہ دین (قیامت) کا دن کیسا ہے؟ وہ ایسا دن ہے جس میں کوئی کسی پر قابو نہیں رکھتا ہوگا۔ اس دن حکم اور فرمان صرف اور صرف خدا ہی کا ہوگا۔ (انفطار ۔ ۱۸ و ۱۹)
٭ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ، ایک قسم کے انذار یعنی ڈرائے جانے پر مشتمل ہے لیکن اس کے الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے پہلو میں واقع ہونے کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشخبری اور وعید کو ساتھ ساتھ ہونا چاہیے جیسا کہ ایک دوسری آیت شریفہ میں ہے کہ نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّىْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝ وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَالْعَذَابُ الْاَلِيْمُ۝ یعنی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت مہربان اور بخشنے والا ہوں اور میرا عذاب اور میری سزا بھی بہت ہی درد ناک ہے۔ (حجر۔ ۴۹ و ۵۰)
اسی طرح ایک اور آیت میں اپنا تعارف ان الفاظ میں کراتا ہے: قِابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ۝ یعنی خداوند عالم لوگوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور گناہگاروں کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ (غافر ۔ ۳)
٭ قرآن کی سب سے پہلی سورت ہے جس میں خداوند کی مالکیت کا عنوان ذکر کیا گیا ہے۔ مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ، پھر قرآن کی سب سے آخری سورت میں بھی اس کی ملکیت کا ذکر کیا ہے، مَلِكِ النَّاسْ ۔

پیغام

۱۔ خدا تعالیٰ مختلف جہات اور متعدد وجوہات کی بنا پر عبادت کے لائق ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی حمد و سپاس بجا لائیں ۔ اس کے ذاتی اور صفاتی کمال کی وجہ سے کہ وہ اللّٰه ہے۔ اس کے احسان و تربیت کی بنا پر کہ وہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ہے۔ اس کی ذات سے رحمت کی امید اور فضل و کرم کے انتظار کی وجہ سے کہ وہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ہے اور اس کی قدر و ہیبت کی بنا پر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہے۔
۲۔ قیامت اس کی ربوبیت کا پرتو ہے ۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ……… مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔
۳۔ قیامت اس کی رحمت کا جلوہ ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝ ۔

کتاب "تفسیر نور" کی فہرست