سورہ حمد آیت نمبر ۳

آیت نمبر ۳
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
ترجمۃ الآیات
(وہ خدا ) بہت بخشنے والا مہربان ہے۔

نکات

٭ خداوند تعالیٰ نے رحمت کو اپنے اوپر واجب قرار دے رکھا ہے۔ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۝ یعنی تمہارے پروردگار نے رحمت و مہربانی کو اپنے اوپر واجب کیا ہوا ہے۔ (انعام۔ ۵۴) اور اس کی رحمت ہر چیز کے لیے وسیع و عام ہے۔ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝ (اعراف۔ ۱۵۶)
اسی طرح اس نے جس پیغمبر کو بھیجا ہے یا کتاب کو نازل فرمایا ہے وہ بھی مایۂ رحمت ہے۔ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝ ۔ (انبیاء۔ ۱۰۷) اس کی طرف سے خلقت ہو، پرورش ہو یا تربیت سب رحمت کی بنیاد پر ہے۔ اگر وہ سزا دیتا ہے تو وہ بھی اس کا لطف و کرم ہے۔
گناہوں کی بخشش ہو یا بندوں کی توبہ قبول کرنا ہو یا ان کے عیوب کو چھپانا ہو یا ان کی غلطیوں کی تلافی کے لیے انہیں مہلت دینا ہو، یہ سبھی اس کی رحمت اور مہربانی کے مظہر ہیں۔

پیغام

۱۔ خداوند عالم کی طرف سے تدبیر اور تربیت اس کے رحم و کرم اور لطف و مہربانی و محبت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ (لفظ رَبِّ کے ساتھ لفظ الرَّحْمٰنُ آیا ہے)۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
۲۔ جس طرح تعلیم کے لیے رحم اور مہربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اَلرَّحْمٰنُ۝ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۝ (رحمٰن۔۱و ۲) اسی طرح تربیت اور تزکیۂ نفس بھی رحم اور مہربانی کی بنیادوں پر انجام پاتے ہیں۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
۳۔ خداوند کی رحمانیت، اس کی حمد کیلئے دلیل ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ ……… الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تفسیر نور  :  فہرست