سورہ حمد آیت نمبر۱

آیت نمبر۱
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
ترجمۃ الآیات
خدا کے نام سے جو بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

نکات

٭ مختلف اقوام و ملتوں میں یہ رواج ہے کہ تمام اہم اور ضروری کام اپنے بزرگوں میں سے کسی صاحب عزت و احترام بزرگ کے نام سے شروع کرتے ہیں تاکہ وہ کام محفوظ اور بابرکت ہو جائے اور نتیجہ خیز ہو ۔ وہ لوگ اپنے صحیح یا غلط عقیدے کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ کبھی بتوں یا طاغوتوں کے نام سے، کبھی خدا کے نام سے اور اولیائے خدا کے دست مبارک سے شروع کرتے ہیں ۔ چنانچہ غزوہ خندق میں زمین پر سب سے پہلی کدال رسول خداؐ نے لگائی۔ (بحار، ج ۲۰، ص ۲۱۸)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کتاب الٰہی کا سر نامہ کلام ہے ۔بِسْمِ اللہِ صرف قرآن پاک کی ابتداء میں ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں کی ابتدا اسی کلمہ سے ہوئی تھی ۔ سب انبیا کرام کے کار و عمل کا سرنامہ بھی بسم اللہ ہی تھی ۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفانی موجوں میں چلنے لگی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: بِسْمِ اللہِ مَجْرٖىہَا وَمُرْسٰىہَا۝ یعنی اس کشتی کا چلنا اور رکنا خدا کے نام سے ہے۔ (ہود۔ ۴۱)
٭ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس دعوت نامے کا آغاز بھی آپ نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سے کیا تھا۔ (نمل۔ ۳۰)
٭ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : بِسْمِ اللہِ برکت کا باعث ہے اور اس کا ترک کرنا ناکامی کی وجہ ہے ۔ اسی طرح آپؑ نے ایک شخص سےجو بِسْمِ اللہِ لکھ رہا تھا، فرمایا: جوّدھا یعنی اسے خوبصورت انداز میں لکھو۔ (کنز العمال، ح ۲۹۵۵۸)
٭ ہر کام کو شروع کرتے وقت بِسْمِ اللہِ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، کھانا کھانے، نکاح کرنے، سواری پر سوار ہونے، سفر کا آغاز کرنے اور دوسرے بہت سے مواقع پر اس کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر جانور کو بِسْمِ اللہِ پڑھے بغیر ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت حرام ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی خوراک کا بھی ایک مقصد ہوتا ہے اور توحید پر ایمان رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ الٰہی جہت کو اپنائے رکھے۔
حدیث میں پڑھتے ہیں کہ بِسْمِ اللہِ کو فراموش نہ کرو حتیٰ شعر کا ایک بیت لکھتے وقت بھی۔ جو کوئی بچے کو پہلی مرتبہ بِسْمِ اللہِ سِکھائے اس کی جزا کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔

سوال: ہر کام کی ابتدا میں بِسْمِ اللہِ کی تاکید کیوں کی گئی ہے؟
جواب: بسم اللہ مسلمان کی علامت اور نشان ہے۔ اس کے ہر کام پر الٰہی رنگ ہونا چاہیے۔ جس طرح کسی کارخانے کی مصنوعات اور سامان پر اس کارخانے کی مہر اور علامتی نشان ہوتا ہے۔ خواہ وہ جزوی طور پر ہو یا کلی طور پر ہو۔ مثلاً چینی کے برتن بنانے والے کارخانے کی طرف سے ہر برتن پر اس کی ساخت کی علامت ہوتی ہے خواہ وہ برتن بڑے ہوں خواہ چھوٹے، سب پر اس کا علامتی نشان ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی ملک کا قومی پرچم بھی ہے جو اس ملک کی بلندیوں پر لہرا رہا ہوتا ہے اور سمندر میں چلنے والے اس کے جہازوں پر اور دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین کی میزوں پر بھی نظر آتا ہے۔ تمام سرکاری عمارتوں پر ، سکولز اور انتظامی فورسز کی چوکیوں پر بھی نظر آتا ہے ۔
سوال: کیا بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الگ مستقل آیت ہے؟
جواب: اہلبیت رسول اللہ علیھم السلام جو دوسرے فقہی رہبروں پر سو سالہ برتری رکھتے ہیں، جو راہ خدا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے، نیز قرآن میں ان کی عصمت و طہارت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا، ان کے اعتقاد کے مطابق بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ایک مستقل آیت اور قرآن مجید کا جزء ہے۔
فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں بِسْمِ اللہِ کے جزء قرآن ہونے پر سولہ دلیلیں پیش کی ہیں ۔ آلوسی بھی اسی نظریے کا قائل ہے ۔ مسند احمد میں بھی بِسْمِ اللہِ کو جزء سورت شمار کیا گیا ہے۔ (مسند احمد، ج ۳، ص ۱۷۷ و ج ۴، ص ۵۸)
بعض لوگ جو بِسْمِ اللہِ کو سورت کا جزء نہیں جانتے، یا نماز میں اسے ترک کرتے ہیں، ان پر اعتراضات کیے گئے ہیں۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک دن معاویہ نے نماز میں بِسْمِ اللہِ نہیں پڑھی تو لوگوں نے اس پر یہ کہہ کر اعتراض کیا: اسرقت ام نیست، کیا تم نے آیت چوری کر لی ہے یا بھول گئے ہو؟ (مستدرک حاکم، ج ۳ ، ص ۲۳۳)
ائمہ معصومین علیھم السلام اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ نماز میں بِسْمِ اللہِ کو بلند آواز سے پڑھا جائے۔ جو لوگ نماز میں بِسْمِ اللہِ نہیں پڑھتے یا اسے سورت کا جزء شمار نہیں کرتے، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں: سرقوا اکرم آیۃ یعنی ان لوگوں نے بہترین آیت کو چرا لیا ہے۔ (بحار، ج ۸۵، ص ۲۰)
سنن بیہقی میں ایک حدیث کے ضمن میں منقول ہے کہ کیوں بعض لوگوں نے بسم اللہ کو سورت کا جزء شمار نہیں کیا ؟ (سنن بیہقی، ج ۲ ، ص ۵۰)
شہید مطہریؒ سورہ حمد کی تفسیر میں ابن عباس، عاصم، کسائی، ابن عمر، ابن زبیر، عطا، طاؤس، فخر رازی اور سیوطی کو ان لوگوں میں ذکر کرتے ہیں جو بِسْمِ اللہِ کو سورت کا جزء سمجھتے تھے۔
تفسیر قرطبی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ’’بِسْمِ اللہِ تمام سورتوں کا تاج ہے۔‘‘ صرف سورہ برائت (سورہ توبہ) میں بِسْمِ اللہِ نہیں ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق سورہ توبہ کے اول میں بِسْمِ اللہِ اس لیے نہیں ہے کہ وہ امان و رحمت کا کلمہ ہے اور یہ کفار و مشرکین سے برائت، نفرت اور دشمنی کے اظہار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ (مجمع البیان و تفسیر کشاف)

بسم اللہ پر ایک نظر

۱۔ بِسْمِ اللہِ خدائی رنگ اور صبغت الٰہی کی علامت اور ہمارے لیے توحید کے رستوں پر چلنے کا واضح نشان ہے۔ (امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: بسم اللہ یعنی خدا کی بندگی کے نشان کو اپنے آپ پر لگاتا ہوں۔ تفسیر نور الثقلین)
۲۔ بِسْمِ اللہِ سے کسی کام کا آغاز توحید کی علامت ہے ، غیر خدا کے نام سے ساتھ آغاز کفر کی علامت ہے اور خالق و مخلوق کے نام ملا کر ان سے کام کا آغاز کرنا شرک کی علامت ہے۔ پس نہ تو خدا کے نام کے ساتھ دوسروں کا نام لیا جائے اور نہ ہی اس کی بجاے دوسروں کا نام لیا جائے۔
(نہ صرف اس کی ذات بلکہ کانام بھی نیز ہر شریک سے منزہ ہے۔ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى یعنی اسم پروردگار کو اسم محمدؐ کے ساتھ ملا کر کسی کام کی ابتدا بھی ممنوع ہے۔ اثبات الھداۃ، ج ۷، ص ۴۸۲)
۳۔ بِسْمِ اللہِ بقا اور دوام کی علامت ہے اور جس میں خدائی رنگ نہیں وہ فانی ہے۔ (كُلُّ شَيْءٍ ھَالِكٌ اِلَّا وَجْہَہٗ۝ قصص ۔ ۸۸)
۴۔ بِسْمِ اللہِ خدا سے عشق اور اس پر توکل کی علامت ہے وہ جو رحمان و رحیم ہے اس کے ساتھ عشق کرتے ہیں، اپنے کام کو اس پر توکل کے ساتھ شروع کرتے ہیں، کیونکہ اس کا نام لینا رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔
۵۔ بِسْمِ اللہِ تکبر سے دور رہنے اور بارگاہ الٰہی میں اظہار عجز کی علامت ہے۔
۶۔ بِسْمِ اللہِ بندگی اور عبودیت کے راستے کا پہلا قدم ہے۔
۷۔ بِسْمِ اللہِ شیطان کو بھگانے کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ خدا اس کے ساتھ ہے اس پر شیطان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
۸۔ بِسْمِ اللہِ کاموں کے پاکیزہ ہونے کا عامل اور ان کے پورا ہو جانے کے یقین کا موجب ہے۔
۹۔ بِسْمِ اللہِ ذکر خدا ہے یعنی اے خدا ! میں نے تجھے فراموش نہیں کیا۔
۱۰۔ بِسْمِ اللہِ نیت کو بیان کرتی ہے۔ یعنی خدایا! تو ہی میرا ہدف اور میرا مطلوب ہے مجھے عام افراد، طاغوت، رنگینئ دنیا اور نفسانی خواہشات سے رغبت نہیں ہے۔
۱۱۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : بِسْمِ اللہِ اللہ کا اسم اعظم ہے ۔ آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کی قربت سے زیادہ قریب ہے۔ (تفسیر راہنما)

پیغام

۱۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کا سورت کے آغاز میں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سورت کے مطالب مبدائے حق اور مظہر رحمت کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔
۲۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کا آسمانی کتاب کے شروع میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہدایت صرف اس کی مدد سے ممکن ہو سکتی ہے ۔
(یہ جو کہا جاتا ہے کہ تمام قرآن سورہ حمد میں ہے تمام سورہ حمد بِسْمِ اللہِ میں ہے اور تمام بِسْمِ اللہِ حرف ’’با‘‘ میں ہے۔ شاید اس کا معنی یہ ہو کہ کائنات کی تخلیق، ہدایت اور اس کی بازگشت خدا ہی کی مدد سے ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرمؐ کی رسالت بھی اسی کے نام سے شروع ہوئی۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ)
۳۔ بِسْمِ اللہِ وہ کلمہ ہے جس سے خداوند کی بات اس کے بندوں سے اور بندوں کی بات ان کے پروردگار سے شروع ہوتی ہے۔
۴۔ رحمت الٰہی اس کی ذات کی طرح ابدی اور ازلی ہے۔ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
۵۔ رحمت الٰہی کا مختلف انداز میں بیان، رحمت پر اصرار و تاکید کا اظہار ہے۔ ایک انداز رَحْمٰن ہے تو دوسرا انداز رحیم ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
۶۔ کتاب خدا کی ابتدا میں کلمۂ رحمٰن و رحیم کا آنا شاید اس بات کی علامت ہے کہ قرآن، الٰہی رحمت کا جلوہ ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے خلقت اور بعثت اس کی رحمت اور لطف و کرم کا جلوہ ہے۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

کتاب "تفسیر نور" کی فہرست