سورہ حمد کا ایک منظر

سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃِ
سورہ : ۱ پارہ : ۱ آیات : ۷


سورہ حمد کا ایک منظر
سورہ حمد جس کا دوسرا نام فاتحۃ الکتاب ہے ۔ اس کی سات آیات ہیں ۔ (سات کا عدد، آسمانوں کا عدد، ایام ہفتہ، طواف، سعی بین صفا و مروہ اور شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا عدد ہے۔) یہ وہ واحد سورت ہے جو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اسے ہر روز کم از کم ایک دن رات کی نمازوں میں دس مرتبہ پڑھے ۔ عمدی طور پر اس کو ترک کرنا بطلان نماز کا باعث ہے۔ لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب (مستدرک، ج ۴، ح ۴۳۶۵)
جابر بن عبد اللہ انصاری کی رسول اکرمؐ سے روایت ہے کہ ’’یہ سورت قرآن کی بہترین سورتوں میں سے ہے۔‘‘ ابن عباس سے منقول ہے کہ ’’سورہ حمد قرآن کی بنیاد ہے۔‘‘ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ’’اگر تم نے مردے پر ستر مرتبہ اس سورت کو پڑھا اور زندہ ہوجائے تو تعجب نہ کرو۔‘‘ (بحار، ج ۹۲، ص ۲۵۷)
پیامبر اکرمؐ کی طرف سے اس سورت کا نام فاتحۃ الکتاب رکھے جانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول خداؐ کے زمانے میں تمام آیات قرآن کی جمع آوری ہو کر کتاب کی شکل دی جا چکی تھی ۔ آپؐ کے حکم سے اس سورت کو آغاز میں اور قرآن پاک کے شروع میں رکھا گیا۔ (عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۲۷)
اسی طرح ہم حدیث ثقلین میں پڑھتے ہیں، پیامبر اکرمؐ نے فرمایا کہ انی تارک فیکم ثقلین کتاب اللہ و عترتی (بحار، ج ۲، ص ۱۰۰) ’’میں دو گرانقدر چیزیں آپ کے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں، کتاب اللہ اور اپنی عترت۔‘‘ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ زمان پیامبرؐ میں آیات الٰہی ’’کتاب اللہ‘‘ کی شکل میں جمع کی جا چکی تھیں اور اسی نام سے مسلمانوں کے درمیان معروف و مشہور تھیں ۔
سورہ مبارکہ فاتحہ کی آیات میں خدا تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، قیامت کا مسئلہ، راہ حق کی پہچان کی درخواست، اس پر چلنے کی دعا، خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور ربوبیت کو قبول کرنے کے بارے بیان موجود ہے۔ اسی طرح اولیائے خدا کے راستے کو جاری رکھنا، ان سے محبت کا اظہار، گمراہ افراد اور جن پر غضب ہوا، ایسے افراد سے نفرت اور بیزاری کا اعلان پایا جاتا ہے۔
سورہ حمد خود قرآن کی طرح شفا کا ذریعہ ہے۔ جسمانی امراض کیلئے شفا ہے اور روحانی بیماریوں کیلئے بھی شفا ہے۔
(علامہ امینی ؒ فاتحۃ الکتاب کی تفسیر کے ذیل میں اس بارے میں بہت سی روایات ذکر کرتے ہیں ۔)

تفسیر نور  :  فہرست