سورہ حمد آیت نمبر ۵

آیت نمبر ۵
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ
ترجمۃ الآیات
( خداوندا ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔
نکات :
٭حکم عقل کے مطابق انسان کو خداوند کی بندگی کو قبول کرنا چاہیے ۔ ہم انسان کمال سے عشق کرتے ہیں اور رشد و تربیت کے محتاج ہیں ۔ خداوند تعالیٰ تمام کمالات کا جامع اور تمام کائنات کا رب ہے ۔اگر ہمیں مہر و محبت کی ضرورت ہے تو وہ رحمن و رحیم ہے ،اگر مستقبل بعید سے اندیشہ ہے تو وہ اس دن کا مالک اور صاحب اختیار ہے ۔ ہم دوسروں کی طرف کیوں جائیں ؟! عقل تو یہی فیصلہ کرتی ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی کی ذات سے مدد مانگو۔ اپنی خواہشات کا بندہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ دوسروں کی دولت و طاقت کا غلام بننا چاہیے ۔
٭نماز میں نماز گزار ایسے ہے گویا وہ سب خدا پرست افراد کی طرف سے کہتا ہے : اے خدا ! نہ صرف میں بلکہ ہم سب تیرے بندے ہیں ۔ نہ صرف میں بلکہ ہم سب تیرے محتاج اور تیرے لطف و کرم کے نیاز مند ہیں ۔
٭اِيَّاكَ یعنی اے خدا ! میں تیرے علاوہ کسی کو نہیں پاتا لیکن تو میرے علاوہ بہت سوں کو رکھتا ہے ۔ ساری ہستی تیری مطیع اور غلام ہے ۔ ’’اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا۝۹۳ۭ ‘‘ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو خدائے رحمن کی مطیع اور فرمانبردار نہ ہو ۔ (مریم ۔ ۹۳ )
٭’’نَعْبُدُ ‘‘ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جانی چاہیے۔ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی اور ایک ہی راہ کے راہی ہیں ۔
٭معنوی پرواز کے مراحل میں حمد و ثنا ، رابطہ اور پھر دعا ہے ۔ اس لیے سورہ حمد کے شروع میں ثناء ہے ، ’’ ایاک نعبد ‘‘ کی آیت رابطہ کو بتاتی ہے ، اور اس کے بعد دعا ہے ۔
٭محبوب حقیقی کے ساتھ گفتگو بہت شیریں ہوتی ہے شاید اسی لیے ’’اِيَّاكَ ‘‘ کے لفظ کو مکرر لایا گیا ہے ۔
پیغام :
۱۔ پہلے خدا تعالیٰ کی بندگی کرنی چاہیے پھر اس سے حاجت چاہیں ۔ ’’ نَعْبُدُ ، نَسْتَعِيْنُ ‘‘
۲۔ بندگی صرف خدا کے لیے جائز ہے دوسروں کیلئے نہیں ۔ ’’ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ‘‘
۳۔ اگرچہ عبادت ہم ہی کرتے ہیں لیکن اس کی انجام دہی کے لیے ہم اس کے محتاج ہیں ۔ ’’ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۵ۭ ‘‘ (وَمَا كُنَّا لِنَہْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ۝۰ۚ اگر الٰہی ہدایت نہ ہوتی ہم ہدایت حاصل نہ کر پاتے ۔ اعراف ۔ ۴۳ )
۴۔ ’’اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۵ۭ ‘‘ یعنی نہ جبر ہے نہ تفویض ، کیونکہ ہم کہتے ہیں کہنَعْبُدُ یعنی ہم اختیار رکھتے ہیں مجبور نہیں ہیں ۔ اور جب کہتے ہیں کہ نستعین ، یعنی ہم اس کے نیاز مند ہیں اور امور ہمیں نہیں سونپے گئے۔
۵۔ خداوند کی ذات و صفات کی معرفت ، توحید و عبودیت تک پہنچنے کا مقدمہ ہے ۔ ’’ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۲ۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۳ۙ مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝۴ۭ اِيَّاكَ نَعْبُدُ
۶۔ دعا و عبادت کے آداب یہ ہیں کہ انسان خود سے غافل ہوکر اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو ۔ خدا تعالیٰ کی موجودگی کا احساس کرے ۔ ’’اِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘
۷۔ معاد کی طرف توجہ ، عبادت کی طرف رغبت کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ ’’ مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝۴ۭ اِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘