مقدمہ تجدید اشاعت


مقدمہ تجدید اشاعت
۱۳۷۸ شمسی میں ثقافتی مرکز برائے درسھائے از قرآن کی طرف سے پہلی جلد کی نئی اشاعت کیلئے میں نے دوبارہ گہری نظر سے تفسیر نور کا مطالعہ کیا ہے ۔ بعض مطالب کو حذف یا ادغام کرتے ہوئے ، جدید مطالب کو جو خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالے تھے یا تفسیر راہنما و نخبۃ التفاسیر سے استفادہ کیا تھا ، پہلے والے مطالب میں اضافہ کیا ہے ۔
کچھ دیر کیلئے میں فکر میں تھا کہ دو تین سال بعد اپنے لکھے کو میں تبدیل کر رہا ہوں ، اگر یہ قیامت تک پہنچے اور اولیا خدا ، فرشتوں ، سب سے بڑھ کر خدا تعالی کی نگاہ سے جب یہ تحریر گزرے گی تو کتنی زیادہ تبدیلیاں اس میں واقع ہونگی ۔ پھر یہ کہ سب اصلاحات و تبدیلیاں اس شرط کے ساتھ مفید ہیں کہ اس میں ریا ، غرور ، تکبر نہ ہو اور اعمال حبط یا باطل نہ ہو جائیں ۔ بہرحال میں نے بہت زحمت کی ہے ، لیکن نہیں جانتا کہ روز قیامت حتیٰ کہ اس کا ایک صفحہ بھی میری نجات کا باعث ہوگا یا نہیں !!
بے شک قرآن پاک نور ہے ، نقص و کوتاہی ہم میں یا ہماری تحریر میں ہے ۔ بہرحال خدا تعالیٰ کے لطف و کرم سے امید رکھتا ہوں کہ جس طرح گلستان میں مٹی پھول میں تبدیل ہو جاتی ہے اسی طرح قرآن پاک کی نورانی آیات کے سایہ میں ہماری یہ ناقص تحریر بھی نور میں بدل جائے گی ۔
اللھم آمین
محسن قرائتی
۶۔۴۔۱۳۷۸