سورہ حمد آیت نمبر ۷

آیت نمبر ۷
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗ لِّيْنَ۝۷ۧ

ترجمۃ الآیات
( اے خدا ! ہمیں ) ان لوگوں کی راہ ( کی ہدایت فرما ) جنہیں تو نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہے ، نہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہوں کی ۔
نکات :
٭ یہ آیت راہ مستقیم کو ایسے لوگوں کی راہ بتا رہی ہے جو مشمول نعمات الٰہی ہوئے ہیں ۔ اور وہ انبیا ، صدیقین ، شہدا و صالحین ہیں ۔ (وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۝۰ۚ جو لوگ خدا اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ہمراہ ہونگے جن پر خدا نے اپنی نعمتیں کی ہیں ، انبیا ، صدیقین ، شہدا و صالحین میں سے ۔ نساء ۔ ۶۹ و مریم ۔۵۸ )
ان بزرگواروں کی راہ پر توجہ ، اس پر گامزن رہنے کی آرزو ، اس آرزو کو اپنی ذات کے لیے پورا کرنے کی تمنا ، انسان کو کجروی اور غلط راستوں پر چلنے سے باز رکھتی ہے ۔ اس درخواست کے بعد نماز پڑھنے والا خدا سے دعا مانگتا ہے کہ وہ اسے غضب شدہ اور گمراہ شدہ لوگوں کے راستے پر نہ چلائے ۔ کیونکہ قرآن کے مطابق بنی اسرائیل بھی مشمول نعمات الٰہی ہوئے تھے لیکن ناشکری اور ضد کی وجہ سے غضب الٰہی کا شکار ہوئے ۔
٭ قرآن لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہے : وہ لوگ جنہیں نعمت ہدایت دی گئی اور وہ ثابت قدم رہے ، جن پر غضب ہوا اور وہ جو گمراہ ہو گئے ۔
٭ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ میں نعمت سے مراد نعمت ہدایت ہے ۔ کیونکہ پہلے والی آیت میں ہدایت کی بات ہے ۔ مادی نعمتیں کفار ، گمراہ افراد اور دوسرے سب لوگوں کے پاس بھی ہوتی ہیں ۔
٭ ہدایت پانے والے افراد کو بھی خطرہ لاحق ہے ، اس لیے ہمیشہ خدا سے دعا کرتے رہنے چاہیے کہ ہمارا راستہ غضب اور گمراہی کی طرف نہ چلا جائے ۔
مغضوبین در قرآن
قرآن مجید میں فرعون ، قارون اور ابو لہب جیسے افراد اور عاد ، ثمود اور بنی اسرائیل جیسی اقوام کا تعارف غضب شدگان کی حیثیت سے کرایا گیا ہے۔ (قرآن پاک کی متعدد آیات میں گمراہ افراد اور غضب شدگان کی خصوصیات و مصادیق کا ذکر ملتا ہے ۔ نمونہ کے طور پر درج ذیل میں چند ایک مثال بیان کر رہے ہیں :
منافقین ، مشرکین ، خداوند کے بارے میں بد گمانی کرنے والے ۔ نساء ۔ ۱۱۶ ، فتح ۔ ۶۔
آیات الٰہی کے منکرین ، انبیا الٰہی کے قاتلین ۔ بقرہ ۔ ۶۱۔
وہ اہل کتاب جو دعوت حق سے سرکشی کرتے ہیں ۔ آل عمران ۔ ۱۱۰ و ۱۱۲۔
جہاد سے فراری لوگ ۔ انفال ۔ ۱۶۔
کفر کو قبول کرنے والے اور ایمان کی جگہ پر کفر کو اختیار کرنے والے ۔ بقرہ ۔ ۱۰۸ ، نحل ۔ ۱۰۶۔
دشمنان خدا کی ولایت کو اختیار کرنے والے اور خدا کے دشمنوں سے رابطہ رکھنے کی خواہش کرنے والے ۔ ممتحنہ ۔ ۱۔ )
بنی اسرائیل کہ جن کی زندگی اور تمدن کی داستانیں قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر ذکر ہوئی ہیں ، وہ ایک عرصے تک اپنے دور کے لوگوں پر برتری رکھتے تھے۔
قرآن مجید ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۴۷ ۔ (بقرہ ۔ ۴۷ )
میں نے تمہیں تمام اہل جہان پر فضیلت عطا فرمائی ۔
لیکن اس فضیلت و برتری کے بعد اپنے ہی کردار کی وجہ سے خداوند کے قہر و غضب کا شکار ہوگئے ۔
وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ۝۰ۭ (بقرہ ۔ ۶۱ )
یعنی ان لوگوں نے قہر خدا کی طرف پلٹا کھایا ۔
ان میں یہ تبدیلی ان کے اپنے کردار اور رویہ میں تبدیلی کی وجہ سے ہوئی کیونکہ علمائے یہود نے تورات کے آسمانی اصولوں اور قوانین میں تحریف کر دی۔
ارشاد ہوتا ہے :
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ(نساء ۔ ۴۶ )
وہ کلمات کے موقع و محل میں ادل بدل کر ڈالتے ہیں ۔
ان کے تاجر اور دولت مندوں نے سود ، حرام خوری اور آرام کو اپنا شیوہ بنا لیا ۔
ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :
وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا (نساء ۔ ۱۶۱ )
یعنی وہ سود کھانے میں لگ گئے ۔
بنی اسرائیل میں عام لوگوں کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ دشمن سے جنگ و جہاد کی بجائے اپنی تن پروری یا خوف کی وجہ سے محاذ جنگ اور سر زمین مقدس میں داخل ہونے سے انکار کر دیا اور پکار پکار کر کہنے لگے : ہم میں جنگ کا حوصلہ و ہمت نہیں ہے ۔
فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰہُنَا قٰعِدُوْنَ۝۲۴ (مائدہ ۔ ۲۴ )
(اے موسیٰ ) آپ اور آپ کا رب جایئے ، جنگ کریں ، ہم یہیں کھڑے ہیں ۔
انہی کجرویوں کی وجہ سے خداوند نے انہیں عزت و فضیلت کی بلندی سے ذلت اور شرمندگی کی پستیوں میں دھکیل دیا ۔ ہم ہر نماز میں خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہم ایسے لوگوں کی مانند نہ بنیں جن پر خدا کا غضب ہوا ہے ۔ یعنی نہ اہل تحریف میں سے ہوں ، نہ سود کھانے والوں میں سے ہوں ، اور نہ ہی ان میں سے ہوں جو حق کے راستے میں جہاد کرنے سے فرار کرتے ہیں ۔ اسی طرح نہ گمراہ لوگوں میں شمار ہوں جو حق کی راہوں کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر اپنے دین و ایمان کے بارے میں غلو اور افراط سے کام لے کر اپنی اور دوسرے لوگوں کی خواہشوں کی اتباع کرنے لگتے ہیں ۔
قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۝۷۷ۧ
کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں غلو نہ کرو اور نا حق بات کے پیچھے نہ لگو ، ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے ہیں ، انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ مائدہ ۔ ۷۷)
٭ اس سورت میں انسان انبیا ، شہدا ، صالحین اور ان کے راستے کے ساتھ اپنے عشق و محبت اور گہری وابستگی کا اظہار کرتا ہے ۔ اسی طرح جن پر غضب ہوا ، تاریخ میں ذکر ہونے والے گمراہ افراد کے ساتھ نفرت اور بیزاری کا اعلان کرتا ہے ۔ یہ آیت تولی و تبری کا مصداق ہے ۔
ضَّاۗ لِّيْنَ در قرآن
٭ قرآن پاک میں لفظ ’’ ضلالت ‘‘ اپنے مشتقات کے ساتھ تقریباً دو سو مرتبہ آیا ہے ۔ کبھی حیرت کے معنی میں آیا ہے جیسے ’’وَجَدَكَ ضَاۗلًّا‘‘ (ضحیٰ ۔ ۷ ) کبھی ضایع ہونے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، ’’ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ۝۱ ‘‘ (محمد ۔ ۱) لیکن اکثر گمراہی کے معنی میں مختلف تعبیرات کے ساتھ آیا ہے ، جیسے ’’ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ، ضَلٰلٍؚبَعِيْدٍ ،ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ ‘‘ ۔
٭ قرآن پاک میں گمراہ لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ، جیسے وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان کو کفر سے بدل لیا ’’وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ۝۱۰۸ ‘‘ ( بقرہ ۔ ۱۰۸)
مشرکین ’’ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۝۱۱۶ ‘‘ (نساء ۔ ۱۱۶)
کافرین وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللہِ ۔۔۔۔۔۔۔فَقَدْ ضَلَّ‘‘ (نساء ۔ ۱۳۶)
نافرمان ’’ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ‘‘ (احزاب ۔ ۳۶ )
وہ مسلمان جو کفار کو اپنا سرپرست اور دوست بنا لیتے ہیں ، ’’ لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ ۔ ۔ ۔ وَمَنْ يَّفْعَلْہُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ۝۱ ‘‘ (ممتحنہ ۔ ۱)
وہ جو لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں ، خدا یا رسول خدا کی توہین کرتے ہیں ۔ وہ جو حق کو چھپاتے ہیں ، اور وہ جو خدا کی رحمت سے مایوس ہیں ۔
٭ قرآن پاک میں بعض افراد کا نام گمراہ کرنے والوں کے طور پر آیا ہے ، جیسے ابلیس ، فرعون ، سامری ، بُرا دوست ، سربراہان اور منحرف بوڑھے یا گذشتگان ۔
٭ گمراہ لوگ اپنی گمراہی کیلئے خود ہی زمین ہموار کرتے ہیں اور اس کی شرائط فراہم کرتے ہیں ۔ گمراہ کرنے والے ان تیار شدہ حالات و شرائط سے استفادہ کرتے ہیں ۔ قرآن میں گمراہی کے ان ذرائع کا ذکر موجود ہے :
۱۔ ہوس ، (اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ ، جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے گمراہ کر دیاہے۔ جاثیہ ۔ ۲۳ )
۲۔ بت ، (وَجَعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِہٖ۝۰ۭ ، اور انہوں نے اللہ کیلئے کچھ ہمسر بنا لیے تاکہ راہ خدا سے گمراہ کرے ۔ ابراہیم ۔ ۳۰ )
۳۔ گناہ ، (وَمَا يُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ۝۲۶ۙ ، اور وہ اس کے ذریعے صرف بد ایمان لوگوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے ۔ بقرہ ۔ ۲۶ )
۴۔ باطل کی سرپرستی قبول کرنا ، (اَنَّہٗ مَنْ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ يُضِلُّہٗ، جو اسے دوست بنائے گا وہ اسے گمراہ کرے گا۔ حج ۔ ۴ )
۵۔ جہالت و نادانی ، (وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗ لِّيْنَ۝۱۹۸ ، حالانکہ اس سے پہلے تم راہ گم کیے ہوئے تھے ۔ بقرہ ۔ ۱۹۸)
پیغام :
۱۔ انسان کو تربیت کیلئے نمونہ عمل کی ضرورت ہے ، انبیا ، شہدا ، صدیقین اور صالحین ، انسانیت کیلئے بہترین نمونہ ہیں ۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙ ۔
۲۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انسان کو ملتا ہے وہ نعمت ہے ۔ جبکہ اس کے قہر و غضب کو ہم اپنے کردار کی وجہ سے پاتے ہیں ۔ اَنْعَمْتَ،۔۔ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ ۔ (نعمت کیلئے انعمت استعمال ہوا ہے ، لیکن عذاب کیلئے نہ فرمایا کہ غضبتَ ، یعنی تو نے غضب کیا ۔ )
۳۔ مغضوب اور گمراہ لوگوں سے نفرت ، ایسے افراد کی حکومت کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کو قوت و ہمت دیتی ہے ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ۝۷ۧ ۔ ( قرآن نے تاکید کی ہے کہ لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَيْہِمْ ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ایسے افراد کی سرپرستی کو کبھی قبول نہ کرو ۔ ممتحنہ ۔ ۱۳)