سورہ حمد آیت نمبر ۶

آیت نمبر ۶
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۶ۙ
ترجمۃ الآیات
(اے خدا ! ) ہم سب کو سیدھی راہ کی ہدایت فرما ۔
نکات :
٭ قرآن مجید میں دو طرح کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے :
الف : ہدایت تکوینی ۔ جیسے شہد کی مکھی کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیونکر پھولوں سے رس کو نچوڑے اور کس طرح اپنے چھتہ کو تیار کرے؟ ! یا پرندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سردیوں اور گرمیوں میں کہاں سے کہاں تک اور کیونکر مہاجرت کریں ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
’’رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰى۝۵۰ ‘‘ ہمارے رب نے ہر چیز کو وجود کی نعمت سے نوازا اور پھر اسے حصول کمال کی طرف ہدایت کی ہے ۔ (طہٰ ۔ ۵۰ )
ب : ہدایت تشریعی ۔ جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے انبیاء کی طرف سے ملنے والی ہدایت ہے ۔
’’صِّرَاطَ ‘‘ کا لفظ قرآن مجید میں چالیس سے زائد مقامات پر ذکر ہوا ہے کیونکہ راستے اور صحیح فکری خطوط کا انتخاب انسانی شخصیت کی علامت ہے ۔
(صِّرَاطَ ، قیامت کے دن ایک پُل کا نام ہے ۔ جوکہ دوزخ کے اوپر ہے اور ہر کسی کو اس کے اوپر سے گذرنا ہوگا۔)
٭ انسان کے سامنے بہت سے غیر الٰہی راستے موجود ہیں اسے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
۱۔ اپنی خواہشات و توقعات کی راہیں ۔
۲۔ لوگوں کی طرف سے امیدیں اور ان کی خواہشات کے راستے ۔
۳۔ شیطانی وسوسوں کی راہیں ۔
۴۔ طاغوت کے راستے ۔
۵۔ گذشتہ لوگوں کی راہیں ۔
۶۔ خدا اور اولیائے خدا کے راستے ۔
مومن انسان ، خدا اور اولیائے خدا کا راستہ انتخاب کرتا ہے ، جس کی کچھ خصوصیات ہیں جو دوسرے راستوں میں نہیں پائی جاتیں :
الف : الٰہی راستہ پائیدار ہے جبکہ طاغوتوں اور انسانی خواہشات کی راہیں ہر روز تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔
ب : خدائی راستہ ایک ہی ہے جبکہ دوسری راہیں متعدد اور بکھری ہوئی ہیں ۔
ج : اس پر چلنے سے انسان کو راستے اور مقصد پر یقین حاصل ہوتا ہے ۔
د : اس راہ پر چلنے سے شکست و ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
صراط مستقیم
سیدھی راہ ، راہ خدا ہے ۔ ’’اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۵۶ ‘‘ (ہود ۔ ۵۶)
سیدھی راہ ، راہ انبیاء ہے ۔ ’’اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝۳ۙ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۝۴ۭ ‘‘ ( یس ۔ ۳ و ۴ )
سیدھی راہ ، بندگی خدا کی راہ ہے ۔ ’’ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِيْ۝۰ۭؔ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ۝۶۱ ‘‘ ( یس ۔ ۶۱ )
سیدھی راہ ، خدا پر توکل اور بھروسہ کی راہ ہے ۔ ’’ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللہِ فَقَدْ ھُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ۝۱۰۱ۧ ‘‘ (آل عمران ۔ ۱۰۱ )
سیدھی راہ ، ایک خدا کی عبادت اور اسی سے مدد چاہنے کی راہ ہے ۔
(اس بنا پر کہ الصِّرَاطَ میں الف لام پہلی والی آیت میں یکتا پرستی کے راستے ہی کی طرف اشارہ ہے۔)
سیدھی راہ ، کتاب خدا ہے ۔ (تفسیر مجمع البیان میں ذکر ہونے والی ایک روایت کے مطابق ، ج ۱ ، ص ۵۸ )
سیدھی راہ ، سالم فطرت کی راہ ہے۔ ( تفسیر صافی میں امام صادق علیہ السلام سے ذکر ایک روایت کے مطابق ، ج ۱ ، ص ۸۶ )
٭ انسان کو چاہیے کہ صراط مستقیم کے انتخاب اور اس راہ پر ثابت قدم رہنے کے لیے خدا سے مدد حاصل کرے ۔ جس طرح بلب اپنی روشنی کو اصلی منبع سے حاصل کرتا ہے ۔ ’’ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۵ۙ ‘‘
٭ سیدھی راہ پر رہنا ، مسلمان کی وہ واحد خواہش ہے جس کیلئے خدا تعالیٰ سے ہر نماز میں دعا کرتا ہے ۔ حتیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ائمہ اطہار؊بھی خداوند سے سیدھی راہ پر برقرار رہنے کی دعا کرتے ہیں ۔
٭ انسان کو چاہیے کہ ہر لمحہ اور ہر طرح کے کاموں میں خدا سے مدد مانگے ۔ چاہے وہ راہ کے انتخاب کی بات ہو یا کام کے انتخاب کی ، دوست یا ہمسر ہو یا تعلیم کے کسی شعبہ کا انتخاب ، اخلاق ہو یا افکار کے انتخاب کی بات ہو ۔ کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان عقائد میں تو صحیح فکر کرتا ہے لیکن عمل میں لغزش کھا جاتا ہے ۔ کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان راہ مستقیم پر برقرار رہنے کے لیے ہر ہر لمحہ میں خدا سے دعا مانگے۔
٭ سیدھے راستے کے مرتبے اور مرحلے ہیں ۔ حتی ان کے لیے بھی ضروری ہے جو راہ حق پر ہیں ۔ جیسے اولیائے خدا کیلئے بھی ضروری ہے کہ راہ راست پر باقی رہنے کی خاطر اور نور ہدایت میں اضافہ کی خاطر دعا کرتے رہیں ۔ ’’ الَّذِيْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًى ‘‘
(جو کوئی کہتا ہے کہااَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۲ۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۳ۙ ۔ ۔ ۔ اس نے ہدایت کے کچھ مرحلے طے کر لیے ہیں ۔ اب اس کی درخواست بلند تر مراتب کیلئے ہے ۔ )
٭ سیدھا راستہ وہی درمیانہ اور وسطی راستہ ہے کہ جس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ الیمین و الشمال مضلۃ و الطریق الوسطیٰ ھی الجادۃ ‘‘ دائیں بائیں گمراہی ہے اور درمیانی راستہ ہی راہ ہدایت ہے ۔ (بحار ، ج ۸۷ ، ص ۳ )
٭ راہ مستقیم یعنی میانہ روی اور حد اعتدال میں رہنا ہے ۔ ہر طرح کے افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ہے ۔ چاہے عقیدے میں ہو یا عمل میں ، کیونکہ کوئی عقاید کو اپنانے میں راستے سے اتر جاتا ہے تو کوئی عمل اور اخلاق میں ایسا کرتا ہے ۔
ایک تمام کاموں کی نسبت خدا تعالیٰ سے دیتا ہے گویا انسان اپنی سرنوشت میں کسی قسم کا کردار نہیں رکھتا ۔ دوسرا اپنے آپ کو ہر کام میں آزاد ’’فعال ما یشاء ‘‘ خیال کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے تو جیسے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ ایک ہے کہ آسمانی رہبروں کو عام انسانوں کی طرح جانتا ہے اور کبھی تو جادوگر و مجنون کہتا ہے ۔ کوئی دوسرا اٹھتا ہے تو ان ہستیوں کو حد خدا تک پہنچا دیتا ہے ۔ ایک ائمہ معصومین ؑ اور شہدا کی زیارت کو بدعت تصور کرتا ہے تو دوسرا درخت و دیوار کے ساتھ بھی توسل کر لیتا ہے اور وہاں دھاگے باندھنے لگتا ہے ۔ ایک اقتصاد کو بنیاد قرار دیتا ہے تو دوسرا دنیا اور امور دنیا کو یکسر نظر انداز کرتا ہے ۔ بعض بے جا اور بے محل غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو اپنی بیویوں تک کو بغیر پردہ کوچہ و بازار میں بھیج دیتے ہیں۔ ایک بخل کرتا ہے تو دوسرا بے حساب سخاوت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ بعض خلق خدا سے دور ہو جاتے ہیں اور کچھ حق کو خلق پر قربان کر دیتے ہیں ۔
اس قسم کی رفتار اور کردار ہدایت کے سیدھے راستے سے جدائی اور انحراف ہے حالانکہ خداوند عالم اپنے محکم و مستحکم دین کو سیدھی راہ کے طور پر متعارف کراتا ہے ۔ ’’ قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۰ۥۚ ‘‘ (انعام ۔ ۱۶۱ )
روایات میں آیا ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام فرماتے ہیں : سیدھا راستہ ہم ہیں ۔ یعنی اس کا عینی اور عملی نمونہ ، اسوہ اور قابل تقلید مثال اور آسمانی رہبر ہیں ۔ انہوں نے زندگی کے تمام مسائل میں انسانوں کی راہنمائی کی ہے چاہے وہ کسی قسم کا کام ہو یا تفریح ، کسی چیز کا حصول ہو یا غذا کا مسئلہ ، کسی پر خرچ کرنا ہو یا بخشش ، کسی پر تنقید کرنا ہو یا اصلاح ، کسی پر ناراض ہونا ہو یا صلح کرنا ہو ، اولاد سے تعلقات ہوں یا کچھ بھی ہو ، ہر معاملہ میں انہوں نے عالم انسانیت کی راہنمائی فرمائی ہے ۔ اور ہمیں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
(تفسیر نور الثقلین ، ج ۱ ، ص ۲۰ ) (اس بارے میں اصول کافی کے باب ’’ الاقتصاد فی العبادات ‘‘ یعنی عبادت میں میانہ روی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔)
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابلیس بھی اسی راہ مستقیم پر کمین لگائے بیٹھا ہے ۔ (شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا : لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۱۶ۙ ، اعراف ۔ ۱۶ )
٭ قرآن مجید اور روایات میں بہت سے نمونے ایسے ہیں جن میں میانہ روی اور اعتدال پسندی کی تاکید کی گئی ہے اور افراط و تفریط سے روکا گیا ہے ۔ ملاحظہ فرمایئے :
كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ (اعراف ۔ ۳۱ )
کھاؤ پیو لیکن اسراف نہ کرو ۔
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ (اسراء ۔ ۲۹ )
(خرچ کرنے میں) اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے نہ باندھ لو اور نہ (ہاتھ) اس قدر کھلا رکھو ۔ (کہ خود محتاج ہو جاؤ )
وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۝۶۷
(مومن وہ ہیں ) جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے ، اور نہ ہی بخل کرتے ہیں بلکہ درمیانی راستہ اپناتے ہیں ۔ (فرقان ۔ ۶۷ )
وَلَا تَجْـہَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۱۰ (اسراء ۔ ۱۱۰ )
نماز کو نہ تو زیادہ بلند آواز میں پڑھو اور نہ ہی آہستہ بلکہ اسے معتدل آواز کے ساتھ ادا کرو۔
والدین کے ساتھ نیکی و احسان کرو ۔وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۔ (بقرہ ۔ ۸۳ ) لیکن جب وہ تمہیں راہ خدا سے باز رکھنے کی کوشش کریں تو ان کی اطاعت لازم نہیں رہے گی ۔ وَاِنْ جَاہَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ ۔ ۔ ۔ فَلَا تُطِعْہُمَا ۔ (لقمان ۔ ۱۵)
پیامبر اکرم ؐ عمومی رسالت بھی رکھتے ہیں ، وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا۝۵۱ ۔ (مریم ۔ ۵۱) ، اپنے اہل خانہ کو بھی دعوت دیتے ہیں ۔ وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ۔ (مریم ۔ ۵۵)
اسلام نے نماز کا حکم دیا ہے جو خالق کے ساتھ رابطہ ہے ۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ ۔ اور زکوٰۃ دینے کا فرمان بھی صادر کیا ہے جو مخلوق کے ساتھ رابطہ ہے ۔ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ ۔ (بقرہ ۔ ۴۳)
نہ تو کسی کی محبت تمہیں حق کی گواہی سے ہٹا دے ۔ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۔ ( نساء ۔ ۱۳۵) اور نہ ہی کسی کی دشمنی تمہیں حد اعتدال سے خارج کر دے ۔ لاَيَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ ۔ (مائدہ ۔ ۸ )
مومنین میں قوت مدافعت بھی ہے ۔اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ ۔ اور جاذبیت بھی ہے ۔ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ ۔ ( فتح ۔ ۹ )
ایمان اور قلبی یقین بھی ضروری ہے ۔ امنوا ۔ اور عمل صالح بھی لازمی ہے ۔وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۔ ( بقرہ ۔ ۲۵ )
اشک ، دعا اور کامیابی کی درخواست بھی خدا سے ضروری ہے ۔ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا۔ ( بقرہ ۔ ۲۵۰ ) سختیوں میں صبر و استقامت بھی ضروری ہے ۔عِشْــرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ۝۰ۚ ۔ (انفال ۔ ۶۵ ) شب عاشور سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے رب سے مناجات بھی کر رہے تھے اور اپنی تلوار کو تیز بھی فرما رہے تھے ۔
عرفہ کے دن اور عید قربان کی رات خانہ خدا کے زائرین دعا بھی مانگتے ہیں اور عید کے دن قربان گاہ میں قربانی کا خون بھی بہاتے ہیں ۔
اسلام مالکیت کو قبول کرتا ہے ۔ الناس مسلطون علی اموالھم ۔ (بحار ، ج ۲ ، ص ۲۷۲ ) لوگ اپنے اموال کے مالک ہیں لیکن اسلام دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے محدود کرتا ہے ۔ لا ضرر و لا ضرار ۔ یعنی نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ اور نہ ہی ضرر اٹھاؤ۔ ( کافی ، ج ۵ ، ص ۲۸ )
جی ہاں ! اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف ایک پہلو کو مد نظر نہیں رکھتا کہ ایک پہلو پر تو اس کی نگاہ ہو اور دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کردے ۔ بلکہ وہ ہر ایک کام میں اعتدال و میانہ روی اور راہ مستقیم پر گامزن رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔
پیغام :
۱۔ ساری کائنات اس راستے پر سفر کر رہی ہے جیسے خدا تعالی نے ان کیلئے اپنے ارادے سے معین فرمایا ہے ۔ اے خدا ! ہمیں بھی اس راستے پر قرار دے جسے تم پسند کرتے ہو ۔ ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۶ۙ ‘‘
۲۔ راہ مستقیم کی طرف ہدایت ، موحدین کی سب سے بڑی خواہش ہے ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ۔ ۔ ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۶ۙ

۳۔ سیدھے راستے کے حصول کیلئے دعا کرنا ضروری ہے ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۶ۙ ۔
۴۔ ابتدا حمد سے ، پھر مدد طلب کریں اور پھر دعا کریں ۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ۔ ۔ ۔ اِھْدِنَا۔
۵۔ خدا کی مدد کا بہترین نمونہ راہ مستقیم کی درخواست ہے ۔ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۵ۭ ۔ ۔ ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۵ۙ ۔