سورہ حمد آیت نمبر۲

آیت نمبر۲
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۲ۙ
ترجمۃ الآیات
شکراورتعریف مخصوص ہے اس خدا کے لیے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔

نکات :
٭’’ رب‘‘ اسے کہا جاتا ہے جو کسی چیز کا مالک و صاحب ہو ۔ وہ اس کی ترقی و کمال اور پرورش میں کردار رکھتا ہے ۔
خداوند کائنات کا حقیقی مالک ہے ۔ وہی مدبر ہے وہی پروردگار ہے ۔ تمام عالم ہستی تکامل کے مرحلے طے کر رہی ہے ۔ جو راستہ خدا تعالیٰ نے اس کیلئے معین کیا ہے وہ اسی راستے پر راہنمائی ہوتا ہے ۔
٭سورہ حمد کے علاوہ چار سورتیں انعام ، کھف ، سبا و فاطر بھی جملہ ’’اَلْحَمْدُ لِلہِ ‘‘ کے ساتھ شروع ہوئی ہیں ۔ لیکن صرف سورہ حمد میں اس جملے کے بعد ’’ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ کا کلمہ آیا ہے۔
٭حمد کے مفہوم میں مدح و شکر کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ انسان کسی کے جمال ، کمال و خوبصورتی کیلئے مدح کرتا ہے ۔ نعمت و خدمت اور دوسرے کے احسان کے بدلے میں شکر ادا کرتا ہے ۔ خداوند تعالیٰ اپنے کمال و جمال کی وجہ سے لائق مدح ہے ، اپنے احسان اور نعمتوں پر لائق شکر ہے ۔
٭’’اَلْحَمْدُ لِلہِ ‘‘ خدا کے شکر کا بہترین انداز ہے ۔ ہر شخص ہر جگہ اور ہر زبان میں ہر کمال اور زیبائی کی ستائش کرتا ہے تو در حقیقت وہ اس کمال و زیبائی کے سرچشمہ ہی کی ستائش کرتا ہے ۔ البتہ خدا کی حمد و ستائش اور شکر گزاری کسی مخلوق کی سپاس گزاری کے منافی نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ حکم خداوندی اور اس کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہو۔
٭تمام مخلوقات کا پروردگار خداوند عالم ہے ۔وَّہُوَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ۝۰(انعام ۔ ۱۶۴) جو کچھ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہے خدا تعالیٰ ان سب کا پروردگار ہے ۔ ’’ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝۰ۭ ‘‘ (شعراء ۔۲۴) ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ من الجمادات و الحیوانات ‘‘ یعنی وہ جاندار اور بے جان تمام چیزوں کا پروردگار ہے ۔
’’ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ تَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝۵۴ ‘‘(سورہ اعراف۔۵۴) تمام خلقت اس کی طرف سے ہے اور اس کا انتظام و کنٹرول بھی اس کی طرف سے ہے ۔ وہی ان کا تربیت کرنے والا اور سب کا پرورش کرنے والا ہے ۔ (تفسیر نور الثقلین )
٭’’عٰلَمِيْنَ‘‘ سے مراد یا صرف انسان ہیں ۔ جیسے سورہ حجر کی آیت ۷۰ میں قوم لوط جناب لوط علیہ السلام سے کہتے ہیں : ’’ اَوَلَمْ نَــنْہَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۝۷۰ ‘‘ کیا ہم نے تمہیں لوگوں سے ملنے سے منع نہیں کیا ؟!
یا اس سے مراد تمام عالم ہستی ہے ۔ ’’ عالَم ‘‘ مخلوقات کے معنی میں اور ’’ الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ تمام مخلوقات کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس آیت سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ساری ہستی کا ایک ہی پروردگار ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں اور بعض قوموں کے درمیان یہ عقیدہ رائج تھا کہ ہر مخلوق کے لیے ایک علیحدہ خدا ہے اور اس فرد یا چیز کو مدبر یا رب النوع سمجھتے تھے ۔ ان کا یہ عقیدہ باطل ہے ۔
پیغام :
۱۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ یعنی تمام تعریفیں اس کیلئے ہیں ۔ (الحمد میں الف و لام بمعنی تمام حمد اور جنس حمد ہے ۔ )
۲۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ یعنی خدا وند کائنات کے رشد و ہدایت میں جبر سے کام نہیں لیتا‘ کیونکہ حمد غیر اجباری کاموں کیلئے ہوتی ہے ۔
۳۔اَلْحَمْدُ لِلہِ یعنی ساری کائنات خوبصورت ہے پوری کائنات کی تدبیر بے عیب ہے ‘کیونکہ حمد خوبصورتی اور اچھائی کیلئے ہے۔
۴۔اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی ہماری حمد و ستائش کرنے کی دلیل اس کی پروردگاری ہے ۔
۵۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی خداوند عالم کا اپنی مخلوق سے دائمی اور گہرا رابطہ ہے ۔
(ماہر مصور اور معمار اپنے ہنر کی مہارت کو پیش کیا کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں لیکن ایک مربی کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر لحظہ نگاہ رکھے ، نظارت کرے ۔ )
۶۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی ساری کائنات خداوند یکتا کے زیر تربیت ہے۔
۷۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی رشد و ہدایت اور تربیت کا امکان تمام موجودات میں پایا جاتا ہے ۔
۸۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی خداوند انسانوں کی تربیت انبیاء کی راہنمائی کے ذریعے فرماتا ہے ۔ ( تشریعی تربیت) اور جمادات و نباتات و حیوانات کی پرورش و تربیت اپنے قدرتی فطری نظام کے تحت فرماتا ہے ۔ (تکوینی تربیت) ۔
۹۔ مومنین کتاب (قرآن) کے آغاز میں خداوند متعالی کی بارگاہ میں کورنش و آداب بجا لانے کے لیے سب سے پہلے کہتے ہیں ’’ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱ۙ ‘‘ اور اہل بہشت بھی اپنے انجام کار پر یہی کہیں گے ’’ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۰ۧ ‘‘ (یونس ۔ ۱۰)